Wednesday, August 8, 2012

.::VULMSIT::.eNoxel IS THERE ANYONE LOOKING FOR SAP REAL TIME PROJECT IMPLEMENTATION EXPOSURE

Reply asap to -  oliverb@101erp.com or contact me at +1-248-275-1146

 

Hi SAP Aspirants,

 

This is great opportunity for the people who just got trained in SAP and looking for real time project exposure in SAP MMWM/FICO/BIBW/HR/HCM/ABAP/SD modules. This is not training or not a training related project, this is a real time program. This will surely help you looking for a career in SAP world.

 

What you on this project is done in real time with real team members managed by the project managers and Leads. You will know how a SAP project is carried out and the Methodologies. 

 

For more details Contact

 

Oliver Bell

Manager - IT- Recruiting

Email:oliverb@101erp.com 
Phone :
248-275-1146

www.101erp.com

 

--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

Tuesday, August 7, 2012

.::VULMSIT::.eNoxel Fwd: ~~♥♥COOoL♥♥~~ MASJIDOUN KA AASHIQ





 

 

 

 ایک متأثر کن قصہ

 آخر تک پڑھیئے

 

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ

میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟ 

ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے، مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی، پہلے تو یہی اردہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں ، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اند جا کر دیکھنا تو چاہیئے کہ کیا ہو رہا ہے؟

ہم نے اند جا کر دیکھا ایک نوجوان مسجد میں جاء نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لئے بیٹھا  تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔  بلکہ ہم نے تو احتیاطا ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ واقعی کوئی اور موجود  تو نہیں ہے۔

میں نے اُسے السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا،  اس نے نطر اُٹھا کر ہمیں دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

اُس نے ہمیں جوابا وعلیکم السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔

میں نے اس سے پوچھا، عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے، نماز کا وقت ہو گیا ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔

اُس کے جواب کا  انتظار کئے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو  وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر یا کس لئے یہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہیں تھا۔ عجیب معمہ سا  تھا۔

پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے،

نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نظر انداز کر تے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔ 

جبکہ میرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ  مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

دماغ میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے، مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیں ہے، مسجد فارغ اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟

میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔

میں نے اس سے پوچھا، بھائی کیا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ'بخیر و للہ الحمد' کہہ کر دیا۔

میں نے اس سے پھر کہا، اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔ 'وہ کیسے' نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔

میں نے جواب دیا کہ جب میں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ایک بات کہی مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اس میں ایسی حیرت والی کونسی بات ہے؟

میں نے کہا، ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے تھے آخر؟

نوجوان میری بات سن کر مسکرا تو ضرور دیا مگر جواب دینے کی بجائے  اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑ لیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔

میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔

اس بار اُس نے نظریں اُٹھا کر  مجھے دیکھا اور کہا؛ میں مسجد سے بات کر رہا تھا۔

اس کی بات میرے ذہن پر بم کی  کی طرح لگی، اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔

میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا، کیا کہا ہے تم نے؟  تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟

اُس نے  پھرمسکراتے ہوئے ہی  جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کر دو۔

میں نے کہا، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔

اُس نے مسکراتے ہوئے  کہا کہ آپکی بات ٹھیک ہے یہ صرف پتھر ہیں۔

اگر تم یہ جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو  نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں  تو  باتیں  کس سے کیں؟

نوجوان نے نظریں پھر زمیں کی طرف کر لیں، جیسے  سوچ رہا ہو  کہ جواب دے یا نہ دے۔

اور اب کی بار اُس نے نظریں اُٹھائے بغیر ہی کہا کہ ؛

میں  مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں،  جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں  تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں

مجھے اُنایام  خیال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہونگے۔

پھر میں اپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ  کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔  میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ  کوئی تو ہو جو ادھر آ کر تسبیح و تحلیل کرے، کوئی تو ہو جو آ کر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلا دے۔

میں تصور کر سکتا ہوں کہ  یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔  

کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں  اور چند  سجدے   ہی اداکر جائے اس میں۔

کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آ کر ایک اذان ہی بلند کرد ے۔

پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم، میں ہوں جو تیرا شوق پورا کرونگا۔

اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کرونگا۔

پھر میں ایسی مسجدمیں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے  ایک سیپارہ کی تلاوت کرتا ہوں۔

میرے بھائی، تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے  پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔

 میری آنکھوں  آنسوؤں سے بھر گئیں،  اس بار میں نے اپنی نظریں زمیں میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے،

اُس کی باتیں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجیب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجیب اسلوب۔۔۔۔۔کیا عجیب شخص  ہے جسکا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔

میرے پاس کہنے کیلئے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔

صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خیر دے، میں نے اسے سلام کیا، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔

مگر ایک حیرت ابھی  بھی باقی تھی۔

نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک گیا،

نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جُھکی  تھیں اور وہ مجھے  کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟

میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔

اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا  میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ

' اے میرے  پروردگار، اے میرے  رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر ، تیرے قرآن کی تلاوت اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانگی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت و ویرانگی کو دور فرما دے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے'

مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

پیارے دوست، پیاری بہن

کیا عجیب تھا یہ نوجوان، اور کیسی عجیب محبت تھی اسے والدین سے!

کسطرح کی تربیت پائی تھی اس نے؟

اور ہم کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں اپنی اولاد کو؟

ہم کتنے نا فرض شناس ہیں اپنے والدین کے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ؟

بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمارا  نیکی پر خاتمہ کرے، اللھم آمین

 

ازراہ کرم! اگر آپ کو اس ایمیل  کا موضوع اچھا لگا ہے تو اپنے ان احباب کو بھیج دیجیئے جن کا  آپ چاہتے ہیں بھلا اور فائدہ ہو جائے۔

مت بھولئے کہ نیکی کی ترغیب دلانے والے کو نیکی کرنے والے  جتنا ثواب ملتا ہے۔

 

کیا کبھی آپ میں سے کسی نے یہ سوچا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ جی ہاں موت کے بعد کیا ہوگا؟

تنگ و تاریک گڑھا، گھٹا ٹوپ  اندھیرا، وحشت و ویرانگی، سوال و جواب،  سزا و  جزا، اور پھر جنت یا دوزخ۔

یا اللہ، اس ایمیل پڑھنے والے کے دکھ درد اور پریشانیاں دور فرما دے، اور ہر اس شخص کی بھی جو  وعظ و عبرت کیلئے اس ایمیل کو دوسروں کو بھیجے۔
آمین یا رب العالمین۔

 حسب سابق  اس مضمون کو عربی سے اردو میں ترجمہ کرکے آپ تک پہنچایا ہے،  مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے  ۔

محمدسلیم/شانتو-چائنا

 

 

 






-- 


جب تم نماز نہ پڑهو تو مت سوچو كہ وقت نہيں ملا. بلكہ يہ سوچو كہ تم سے كونسى غلطى ہوئى ہے كہ الله تبارک وتعالى نے تم كو اپنے سامنے كهڑا كرنا پسند نہ كيا ...


              <<<<<<< sAd pAncHi >>>>>>> 

 





--

     

Phr Yaad-e-Khuda Se Ghafil Iss Duniya Ki Hawass Mein

Iss Mukhtasir Si Zindgi Ka Ik Aor Din Beet Gaya...!!!

                <<<<<<<<<< sAd pAncHi >>>>>>>>>>


--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

Monday, August 6, 2012

.::VULMSIT::.eNoxel HOT LIST OF SAP CONSULTANTS

Hello all, 

This is Imran from Simpbiz Software Solutions Inc. Please find the list of consultants who are available now for the next SAP projects. You can contact me at 248-823-1837 for more details.

 

1)     NAME: CHAMPA
         MODULES: SAP FICO Consultant
         EXPERIENCE: 5 Years
.

 

2)    NAME:  PAULIE KEHINDE AGBAJE 
         MODULES: SAP FICO Consultant
         EXPERIENCE: 6 Years
.

 

3)     NAME: AMISO ONESIMUS HARUNA
         MODULES: SAP FICO Consultant
         EXPERIENCE: 10 Years
.

 

4)     NAME: RONAK DESAI

         MODULES: SAP FICO Consultant

         EXPERIENCE: 9 Years

 

Please add me to your distribution list, if you have one.

Thanks and Have a great day.

https://mail.google.com/mail/images/cleardot.gif
Regards,
Imran Ali khan | imran@SimpBiz.com | IT recruiter/Sales Associate| 
SimpBiz Software Solutions Inc. | Office:248-823-1837| http://www.SimpBiz.com |

--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

.::VULMSIT::.eNoxel IS THERE ANYONE LOOKING FOR SAP REAL TIME PROJECT IMPLEMENTATION EXPOSURE

Reply asap to -  oliverb@101erp.com or contact me at +1-248-275-1146

 

Hi SAP Aspirants,

 

This is great opportunity for the people who just got trained in SAP and looking for real time project exposure in SAP MMWM/FICO/BIBW/HR/HCM/ABAP/SD modules. This is not training or not a training related project, this is a real time program. This will surely help you looking for a career in SAP world.

 

What you on this project is done in real time with real team members managed by the project managers and Leads. You will know how a SAP project is carried out and the Methodologies. 

 

For more details Contact

 

Oliver Bell

Manager - IT- Recruiting

Email:oliverb@101erp.com 
Phone :
248-275-1146

www.101erp.com

--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

.::VULMSIT::.eNoxel Stop killing of muslims in burma






 
 
 
The One & Only .......... IRFAN.

 

--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

.::VULMSIT::.eNoxel Read, Understand & Spread (Al Baqrah -Ayah 25)



Daily little time...but Full of Blessings
 
Quran:
Parah 1
Al Baqrah
Ayah 25
 
 
Jazakallah Kahairun!
 
 

--
.
http://www.vsnl.us
 
========================================================
Pakistani Girls Google: http://groups.google.com/group/pakistani-girls/subscribe
Islamic Girls Google: http://groups.google.com/group/islamic-girls/subscribe
Islamic Girls Yahoo: http://groups.yahoo.com/group/islamic-girls/join
Friendship Lahore Yahoo: http://groups.yahoo.com/group/lahorefriendshipguysvsgirls/join
--------------------------------------------------------------------------------------
Group Email: pakistani-girls@googlegroups.com
Subscribe Email: Pakistani-Girls+subscribe@googlegroups.com
Unsubscribe Email: pakistani-girls+unsubscribe@googlegroups.com
Group Address: http://groups.google.com/group/pakistani-girls
========================================================



--
 
 
 
The One & Only .......... IRFAN.

 

--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en
 
 
 

.::VULMSIT::.eNoxel jhang-e-Badar


 
 بقو ل مولانا آزادکہ '' دنیا میںہرچیزمرجاتی ہے فا نی ہے مگر خو ن شہا دت کے ان قطروں کے لیے جو اپنے اندر حیات الہہیہ کی رو ح رکھتے ہیں کبھی 

فنانہیں ''  پھر ایسے خون شہا دت کا کیا مر تبہ کہ جس میں لڑنے وا لوں نے صرف اللہ تعا لیٰ کی ر ضا و خو شنو دی کواپنا مر کز عمل سمجھا ۔دنیا کی تا ریخ میں لڑا ئیوں اور جنگوں سے بھری پڑی ہے لیکن وہ جنگ جس کامد عا نہ جہاںگیری ہو نہ اقتدار کا شوق نہ ما ل غنیمت جمع کر نیکالالچ ، بلکہ صرف اور صرف اللہ کی ر ضا کے لیے ہو یہ بڑے دل گر د ہ چا ہتی ہے ا ٓپ تما م غزوات ا ٹھاکر دیکھ لیں آپ کو ان میںدو ہی چیز یں قدر مشترک نظر آئیں گی اول جہاد فی سبیل للہ دوئم اپنی مد ا فعت اور حق وانصاف کا حصول۔اسلا م کی پہلی جنگ بدر بھی مسلما نوں نے اپنی مد افعت میں مشر کین مکہ سے لڑ ی تھی ۔

 ۱۷ ر مضان المبا رک سن ۲ھجر ی جمعہ کے دن کفا رمکہ اور اہل ایما ن کے در میا ن  بدر کے مقام پر معرکہ ہو ا یہ ایک گا ئوں کا نام تھا جہا ں ہر سال میلہ لگتا تھا یہ مقا م شام سے مد ینہ جا نے کے دشوار راستے سے ہو کر گذ رتا ہے مکہ کے تجا رتی قا فلے یہاں سے ہو کر گز را کر تے تھے قر یش کے تجا رتی قا فلہ سے حضرت عبد اللہ ؓ کی جھڑپ ہو گئی جس میں قریش کے ایک ر ئیس اعظم کا بیٹا قتل ہو ااور دو گر فتار ہوئے اس واقعہ نے قر یش کو مشتعل کر دیا نیز انھیں اطلاع ملی کہ ان کے تجا رتی قافلے پر مسلمان حملہ کر نے والے ہیں ۔ ادھر جب آنحضر ت ﷺ کو ان سب با تو ں کا پتہ چلا تو انھیں بہت افسوس ہو انھوں ا س کا خون بہا ادا کر دیا اور قید یوں کو رہا کر دیا مگر قر یش جو کہ مسلما نوں کی ہجرت اور انکی بڑ ھتی ہو ئی تعداد سے سخت خا ئف تھے ا ور مو قع کی تلا ش میں تھے کہ کسی طر ح ان کو شد ید نقصا ن پہنچا یا جا سکے وہ اس سنہری مو قع کو ہا تھ سے کیسے جا نے د یتے کفا ر قر یش کو بدر کے مقام پر پہنچ کر معلو م ہو اکہ تجا رتی قا فلہ بحفظا ت مکہ پہنچ چکا ہے تو کئی سرداروںنے مشورہ دیا کہ اب لڑ نا ضروری نہیں لیکن ابو جہل نہ ما نا اور فوج آگے بڑھی قر یش چو نکہ پہلے پہنچ گئے تھے اس لیے انھوں نے منا سب جگہوں پر قبضہ کر لیا بخلا ف مسلما نوں کی طرف کو ئی چشمہ اور کنواں نہ تھا زمین ایسی ریتیلی تھی کہ او نٹوں کے پا وں ان میں دھنس دھنس جا تے تھے تا ئید ایزدی سے با رش ہو ئی جس سے گر دجم گئی مسلما نوں نے جا بجا پا نی روک کرچھو ٹے چھوٹے تا لا ب بنا لیے تاکہ وضواور غسل کے کام آسکے اس جنگ میں مسلما نو ں کی تعداد مشرکین کے مقابلے میں انتہا ی قلیل تھی مشر کین مکہ کی تعداد جو کہ ۱۰۰۰  ہزار تھی۳۰۰ گھو ڑے اور ۷۰۰ اونٹ تھے ،جب کہ مسلما نوں کی تعداد ۳۰۰ ، ۷۰ اونٹ اورصرف تین گھو ڑوںپر مشتمل تھی مگر ان صحا بہ کرام کے دل جذبہ ایما نی کی طا قت سے ما لامال تھے انھیں اپنے اللہ اور اس کے نبیﷺ پر پو را بھروسہ تھا  ۔

لشکر اسلا م کا یہ قا فلہ ۶ ۱ رمضا ن المبارک کو بدر کے مقام پر پہنچا حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ زمین پر ایک خا ص جگہ ہا تھ ر کھتے اور فر ما تے کہ فلا ں کا فر کے مر نے کی جگہ ہے حضرت عمر ؓ اور دیگر صحا بہ کر ام ؓ فر ما تے ہیں دوسرے روزجنگ ختم ہو ئی تو ہم نے ان نشانات کی جگہ کو دیکھا ہر کا فر اسی جگہ مرا  پڑا تھا جس جگہ آپ ؑ نے نشا نات لگا ئے تھے اس جنگ میں حضور ﷺکے لیے جنگی ہیڈ کو اٹر کے طور پر ایک جھونپڑی بنا ئی گئی تما م صحابہ کرامؓ نے رات بھر آرام کیا صرف ایک ذات تھی جورات بھر نما زاور اللہ تعا لیٰ کی با ر گا ہ میں دعا ئیں کرتی رہی آپ ﷺ نے نہا یت رقت آمیز لہجے میں دعا فرمائی '' یا اللہ تو نے مجھ سے جو وعدہ فر مایا ہے اسے پورا کر ! اے اللہ اگر آج اہل اسلا م کی یہ جما عت ہلا ک ہو گئی تو زمین پر تیری عبا دت نہیں ہوگی '' آپ ﷺ کی رقت آمیزی دیکھ کر حضرت ابو بکر ؓ نے عر ض کیا '' اے نبی ﷺ اللہ سے آپ کی یہ دعا ہی کا فی ہے آپ ﷺ کا رب ٓاپ کی دعا اور وعدہ کبھی رد نہیں کرے گا ''۔ دوسرے دن جنگ شروع ہو ئی اس جنگ میں زیا دہ تر صحابہ کرام اور کفا ر قریش آپس میں قریبی رشتہ دار تھے مسلما ن ہونے کے بعد ان کے لیے یہ خو نی رشتے اللہ کی محبت میں بے معنی ہو گئے  وہ اپنے بیٹوں بھا ئیوں اور با پ کے خلا ف صف آرا ہو ئے صر ف ایک رشتہ با قی رہا جو اللہ کی ذا ت سے تھا  اس جنگ میں کا فروں کو سخت نقصا ن اٹھا نا پڑا ' ابو جل اور عتبہ جیسے بڑے سردار وںکے قتل  کے بعد قریش نے سپرڈا ل دی مسلما نوںنے انکو گر فتار کرنا شروع کر دیا قریش کے بڑے معتبر لوگ گر فتا رہو ئے آنحضرت ﷺ نے فرما یا کو ئی جا کر خبر لا ئے کہ ابو سفیان کا کیا حال ہے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ  نے ابو سفیا ن کی گر دن کا ٹ کر آپ ﷺ کے قد موں رکھ دی اس جنگ میں مسلما نوں کے ۱۴ صحابہ کرام ؓ نے شہا دت پا ئی جب کہ قریش کے بڑے سرداروں سمیت ۷۰ لو گ ما رے گئے اور اسی قدر گر فتار ہو ئے ۔

اس جنگ کے بعد قریش کا نشہ ہرن ہو گیا بدر کی فتح سے مسلما نوں کی قسمت کا پا نسہ پلٹ گیا اب وہ محض دین اسلا م کے مبلغ ہی نہ تھے بلکہ ایک سیاسی طا قت کی حثیت بھی اختیار کر چکے تھے انھو ں نے ظالما نہ قوت کو مٹا کر عدل ونصاف کی سلطنت قائم کر نے کی بنیا د رکھ دی ۔اس جنگ سے مسلما نوںکے لیے کئی پہلو سے سبق اور نئی را ہیں مو جود ہیں ایک طرف آپﷺ نے قیدیوں سے اچھا سلو ک کرنے کا حکم فرما یا تو دوسری طرف آپ ﷺ نے فدیہ دے کر انھیں چھوڑنے کا حکم بھی دیا جو نا دار تھے اور پڑھے لکھے تھے ان کو فدیہ کے طور پر دس دس بچوں کو پڑ ھانے کی ذمہ داری دی اس سے اندازہ ہو تا ہے آپ ﷺ تعلیم کو کتنی اہمیت  دیتے تھے اس معرکہ میں دو صحابہ کرام ؓجنگ کیلیے آرہے تھے تو قریش نے ان کو اس وعدہ  پر جا نے دیاکہ وہ مسلما نوںکے ساتھ مل کر جنگ نہیں کر یں گیں انھو ں نے یہ با ت آنحضرت ﷺ کو یہ با ت بتا ئی تو آپ نے افرادی قوت کی کمی ہو نے کے با وجود انھیں جنگ میں حصہ لینے سے روک دیا  اس سے آپ ﷺ کے وعدہ اورا پنی با ت پر قائم رہنے کی اہمیت کا ندازہ ہوتا ہے ۔

 آج اگر ہم تھو ڑی دیر کو یہ سو چیں کہ اس زمانے میں۷ ۱ ر مضا ن کو مسلما ن کس قدر مشکلا ت کا شکار تھے نہ کھانے کو کچھ تھا نہ پہنے کو ڈھنگ کا کپڑا نہ رہنے کو مکا ن ، نہ زندگی گز ارنے کے لیے تحفظ کا کوئی سا ئبا ن تھا ہر طرف دشمن ان کی طاق میں تھے کی کس طر ح ان کو نیست ونا بود کر دیا جا ئے ان حالات میں انھو ں نے محض اپنے جذ بہ ایما نی کی بنیا د پراتنی بڑی فوج سے یہ جنگ لڑی ااور فتح حا صل کی آخر ہم بھی تو اسی دین کے پیرو کا ر ہیں اسی اللہ کو ما ننے والے ہیں پھر کیو ں ہم اس قدر بڑی تعداد میں ہو نے کے با وجود اتنے بے بس اور ذلیل و خوار ہیں ہم کیوں آپس میں مسلما ن ہو نے کے باوجود ایک دوسرے کے خون کے پیا سے ہو ئے ہیں آج اپنے ہی مسلما ن بھا ئی کو گلا کا ٹنے پر فخر محسوس کر تے ہیں کیوں ہم لسانی بنیا دوں پر ایک دوسرے کے خلا ف صف آرا ہیں اس سے نقصان تو ہما رے اور ہما ر ی نئی نسلوں کا ہے جو عدم تحفظ کا شکار ہو کر رہ گئی ہے جو نہ اسکول وکالج جا سکتی ہے نہ روزگار کے مواقع تلاش کر سکتی ہے ہم سب کو رہنا اسی ملک میں ہے تو کیوں ان لو گوں کی حما یت میں اپنے ہم مذہب بھا ئیوں کو قربا ن کر ہے ہیں جن کے اثاثے بیرون ملک ہیں جو کسی بھی مشکل وقت میں ملک چھو ڑ کر فرار ہو جائیں گے بھگتنے کے لیے غر یب عوام رہ جا ئیں گے اس با ر ے میں ہم سب کو سو چنے کی ضرورت ہے اپنی اصلا ح کی ضرورت ہے کہ یہ محض ایک تاریخی واقعہ ہی نہیں کہ جس میں مسلما نوں نے اپنے خو ن بہا کر فتح حا صل کی بلکہ ہم سب کے لیے ایک پیغام بھی ہے ۔


--

     

Phr Yaad-e-Khuda Se Ghafil Iss Duniya Ki Hawass Mein

Iss Mukhtasir Si Zindgi Ka Ik Aor Din Beet Gaya...!!!

                <<<<<<<<<< sAd pAncHi >>>>>>>>>>


--
--
Virtual University of Pakistan*** IT n CS Blog
================================
http://www.geniusweb.tk
 
http://itncs.tk
 
 
You received this message because you are subscribed to the Google
Groups "vulms" group.
To post to this group, send email to vulmsit@googlegroups.com
To unsubscribe from this group, send email to
vulmsit+unsubscribe@googlegroups.com
For more options, visit this group at
http://groups.google.com/group/vulmsit?hl=en?hl=en